ایک نیوز: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور 40 روز بعد بھی تعینات نہ کئے جاسکے,وفاقی سیکرٹری مذہبی امور نہ ہونے کے باعث وزارت مذہبی امور بھی پی آئی اے کی حالیہ بحران میں حصہ دار بن گئی، جبکہ آئندہ حج اور وزارت مذہبی امور کے دیگر معاملات بھی زیر التوا ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سیکرٹری مذہبی امور کا عہدہ خالی ہونے کے باعث فضائی کمپنیوں کو ادائی تعطل کا شکار ہوگئی، ذرائع پی آئی کا بتانا ہے کہ وزارت مذہبی امور نے پی آئی اے کو 550ملین روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں امور ادائیگیاں کردے تو ایندھن کی عدم دستیابی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
وفاقی سیکرٹری مذہبی امور 40 روز بعد بھی تعینات نہ کئے جاسکے،گریڈ 22 کے سیکرٹری مذہبی امور آفتاب اکبر درانی کا 18ستمبر کو بطور وفاقی سیکرٹری تبادلہ کردیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سرکاری حج اسکیم کے تحت پی آئی اے کو 50فیصد عازمین کو حجاز مقدس پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،پی آئی اے سے رواں برس 61461 پاکستانی حاجیوں نے سفر کیاجبکہ حاجیوں کو وطن واپس لانے کے لئے 258 پروازیں چلائی گئیں۔
ایک نیوز نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق وزارت مذہبی امور نے حاجیوں سے ہوائی سفر کی مد میں ڈھائی لاکھ روپے فی کس وصول کئے۔وزارت مذہبی امور حج آپریشن مکمل ہونے کے 2 ماہ بعد بھی پی آئی اے کو مکمل رقم ادا نہ کر سکی۔
وزیر مذہبی امور انیق احمد کا کہنا ہے کہ پی آئی اے سمیت تمام ایئرلائنز کو گزشتہ حج کے فضائی کرایہ کی مد میں 95 فیصد ادائیگی ہو چکی ہےایئرلائنز کو بقایا 5 فیصد ادائیگی حسابات کی چھان بین اور گفت وشنید مکمل ہونے پر جاری کی جاتی ہے۔ایسی رقوم کی ادائیگی کیلئے وزارت کے فیڈرل سیکرٹری کی منظوری لازمی ہےسیکرٹری مذہبی امور کا عہدہ خالی ہونے کے باعث فضائی کمپنیوں کو ادائیگی تعطل کا شکار ہے۔
وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سیکرٹری مذہبی امور کی تعیناتی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔سیکرٹری مذہبی امور کی تعیناتی کے بعد فضائی کمپنیوں کو اداکر دی جائے گی۔