ویب ڈیسک:ماضی کی مقبول ماڈل، میک اپ آرٹسٹ، ٹی وی میزبان و اداکار نادیہ حسین نے اعتراف کیا ہے کہ فیشن اور ماڈلنگ انڈسٹری میں ہمیشہ سے ہی ’کچھ لو، کچھ دو‘ کا ماحول رہا ہے، جنہیں کام دیا جاتا ہے، ان سے کچھ لیا بھی جاتا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نادیہ حسین نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے فیشن، ماڈلنگ اور شوبز انڈسٹری میں ’کچھ لو، کچھ دو‘ یعنی کاسٹنگ کاؤچ کے ماحول پر بات کی۔
ماڈل و میک اپ آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ نہ صرف فیشن اور شوبز بلکہ دوسری انڈسٹریز میں بھی ’کچھ لو، کچھ دو‘ کا ماحول رہا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں شوبز میں یہ ماحول زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ان کے مطابق جب انہوں نے ماڈلنگ شروع کی تھی، اس وقت بھی ’کچھ لو، کچھ دو‘ کا ماحول ہوتا تھا لیکن اب انہیں لگتا ہے کہ مذکورہ ماحول زیادہ ہوگیا ہے۔
نادیہ حسین کے مطابق وہ اپنے ساتھ کیریئر شروع کرنے والی بہت ساری اپنی قریبی اداکاراؤں کو جانتی ہیں، جو ’کچھ لو، کچھ دو‘ کے فارمولے پر چلیں لیکن ان کا ان کے اس فارمولے پر چلنے سے کوئی تعلق نہیں۔
ماڈل و میک اپ آرٹسٹ کے مطابق ماڈلنگ کی دنیا میں ہمیشہ سے ہی ’کچھ لو، کچھ دو‘ کے فارمولے پر کام ہوتا رہا ہے، زیادہ تر مواقع دینے والے مرد ہی ہوتے ہیں اور وہ لڑکیوں سمیت لڑکوں سے بھی فوائد لیتے رہتے ہیں۔
نادیہ حسین نے دعویٰ کیا کہ ماضی کے مقابلے میں اب نہیں ایسا لگتا ہے کہ ’کچھ لو، کچھ دو‘ کا ماحول زیادہ عام بن چکا ہے یا پھر اب لوگ زیادہ روشن خیال بن چکے ہیں اور ایسے ماحول کو غلط نہیں سمجھتے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں بھی ماضی میں ’کچھ لو، کچھ دو‘ کی پیش کش ہوتی رہی ہیں، انہیں متعدد پروگرامات میں اچھے بجٹ کے ساتھ آنے کی پیش کش کی گئی لیکن ساتھ میں ایک خاص ’ڈنر‘ کا کہا جاتا، جس پر وہ انکار کردیتی تھیں۔
نادیہ حسین نے انکشاف کیا کہ محض دو یا ڈھائی سال قبل بھی انہیں اس طرح کی پیش کش ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں کچھ عرصہ قبل انہیں بھوربن میں تین دن کی کانفرنس کی میزبانی کی پیش کش ہوئی اور انہوں نے اپنی مرضی کے پیسے بتائے، جس پر منتظمین رضامند ہوگئے۔
ماڈل و اداکارہ کے مطابق جب پورے معاملات طے ہوگئے تو انہیں کہا گیا کہ انہیں ایک خاص ڈنر بھی کرنا ہوگا، جس پر انہوں نے خاموشی اختیار کرلی اور کانفرنس میں نہیں گئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ شوبز اور فیشن انڈسٹری میں شروع سے ہی ’کچھ لو، کچھ دو‘ فارمولے پر کام ہو رہا ہے لیکن اب مذکورہ فارمولہ زیادہ عام ہوچکا ہے جبکہ دوسری انڈسٹریز میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔