کوئٹہ :قرآن پاک کے نادر و نایاب 100 سے زائد نسخے   چوری ہوگئے  

کوئٹہ :قرآن پاک کے نادر و نایاب 100 سے زائد نسخے   چوری ہوگئے  
کیپشن: Quetta: More than 100 copies of the Holy Quran were stolen

ویب ڈیسک:کوئٹہ میں غار کے اندر قائم میوزیم سے قرآن  پاک  کے 100 سے زائد نایاب نسخے چوری ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قرآن مجید کے یہ قدیم نسخے کوئٹہ کے مغرب میں واقع پہاڑی سرنگ کے اندر بنائے گئے میوزیم میں رکھے گئے تھے ،جنہیں 21 اور 22 جنوری کی درمیانی شب چوری کیا گیا ہے، پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
قرآن  مجید کے بوسیدہ اور ضعیف نسخوں اور اوراق کو بے حرمتی سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے معروف مرکز جبل نور القرآن کے انتظامی کمیٹی کے حکام کے مطابق ’قرآن مجید کے جن قدیم نسخوں کو چوری کیا گیا ہے وہ یہاں آنے والے زائرین کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنتے تھے۔
میوزیم کے ایک ذمہ دار اجمل یوسفزئی کے مطابق قرآن مجید کے 120 نسخے چوری کیے گئے ہیں جن میں سے کچھ 900 سال تو کچھ 100 برس پرانے ہیں جو ادارے نے گزشتہ 30 برسوں کے دوران جمع کیے تھے۔
انہوں نے  مزید بتایا کہ “ان میں ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی اور خطّاطی کے خوبصورت نمونوں پر مشتمل نسخے اور قرآن کے مختلف زبانوں کے تراجم بھی شامل تھے۔
ان کا کہناتھا کہ جبل نورالقرآن کے اندر موجود سرنگوں میں قرآن کے قدیم نسخوں کو شو کیسوں میں رکھا گیا تھا اور سرنگوں کی دیواروں کے ساتھ نصب یہ شو کیس اور اُن پر لگے روشنی کے بلب اس جگہ کے ماحول کو خوبصورت بناتے تھے۔
چوری کے واقعے کے بعد یہاں کی جو ویڈیوز اور تصاویر گردش کررہی ہیں ان میں سرنگوں کے اندر شو کیس ٹوٹے ہوئے ہیں اور ان کے شیشے بکھرے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق چور مجموعی طور پر 12 شو کیس توڑ کر اُن سے قرآن مجید کے نسخے لے گئے۔
ذرائع کے مطابق چور رات کو اس وقت جبل نورالقرآن میں داخل ہوئے تھے جب بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرا تھا۔
اطلاعات کے مطابق وہاں لوڈ شیڈنگ کے دوران روشنی اور سی سی ٹی وی کیمروں کو چلانے کیلئے بیٹریز ہیں لیکن اگر بجلی زیادہ دیر تک نہ آئے تو بیٹریوں کا بیک اپ ختم ہونے کے بعد مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے ۔
میوزیم کے اور ذمہ دار عبدالرشید لہڑی نے بتا یا کہ بجلی کے دیر سے آنے کی وجہ سے چونکہ بیٹریز کا بیک اپ ختم ہوا تو اس کے باعث سی سی ٹی وی کیمرے بند ہو گَئے یا پھر چوروں نے ان کا  کنکشن منقطع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ جو نسخے لکھے ہوئے تھے ان کو ہم نے شو کیسز میں رکھا تھا تاکہ لوگ آ کر ان کو دیکھیں کہ پرنٹنگ مشینوں کی ایجاد سے پہلے ان نسخوں کو ہاتھ سے لکھنے میں کتنی محنت ہوئی ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ چوروں نے زیادہ تر ان شو کیسز کو توڑا جن میں قرآن کے قدیم نسخے تھے چونکہ شو کیسز پر تالے لگے ہوئے تھے اس لیے ان قدیم نسخوں کو لے جانے کے لیے ان کو اوپر سے توڑا گیا ہے۔
میوزیم کے انچارج محمد اجمل نے پولیس تھانہ بروری میں نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 380، 457 اور 427 کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔