ایک نیوز: 18 فروری کو پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جب آج سے ٹھیک 23 سال قبل پاکستان کے بھارت کی جانب بڑھائے گئے دوستی کے ہاتھ کو سانحہ سمجھوتا ایکسپریس کی شکل میں ملیامیٹ کردیا گیا۔ سانحہ کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں جبکہ مودی سرکار میں ملوث مجرم واضح ثبوت ہونے کے باوجود آزادانہ دندناتے پھر رہے ہیں۔
سمجھوتہ ایکسپریس پر دہشتگرد حملے کا نشانہ بننے والے متاثرین تاحال انصاف کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ 18 فروری 2007 کو دہلی سے لاہور آتی سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے نتیجے میں 40 سے زیادہ پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔
واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود اس ظالمانہ واقعے میں ملوث مجرموں کو سزا نہیں دی گئی اور قانون کے کٹہرے میں لانے میں کوتاہی برتی گئی۔ اپنے جرم کا اعتراف کرنے والے سوامی آسیمانند اور دیگر مجرموں کی بریت اس بات کی گواہی ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت میں ہندوتوا سوچ پر کاربند حکومت میں مجرموں کو کھلی چھوٹ ہے۔
سانحہ کے متاثرین آج بھی مودی سرکار سے مطالبہ کررہے ہیں کہ دھماکے کرنے والے مجرموں کو پکڑنے کیلئے بھارت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرے۔ لیکن دو دہائیوں سے زیادہ وقت گزرجانے اور واضح ثبوت ہونے کے بعد بھی انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے مودی سرکار کی پاکستان دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے۔