ایک نیوز: وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پاکستان میں ترقی کے اولین محرکات میں سے ایک ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے 5 جی ٹیکنالوجی پر ریگولیٹری ماسٹرکلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہا ملائیشیا اور پاکستان کے ادارے پی ٹی اے کے درمیان ایم او یو خوش آئند ہے، یہ ایم او یو مختلف اداروں کے لیے نئی راہیں کھولے گا ،اس حوالے سے پاکستان ڈیجیٹل پالیسی لانچ کی گئی ہے جس کے تناظر میں ترقی مزید آسان ہوگی ، کسی بھی ملک میں امن و امان کے بغیر ترقی ممکن نہیں اب ہم کسی بھی موقعے کو کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پاکستان میں ترقی کے اولین محرکات میں سے ایک ہے ۔
انہوں نے کہا پاکستان کو صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے لیے تیار کرنے کے لیے ہم نے بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، GIS اور خلائی ٹیکنالوجی کے لیے قومی مراکز قائم کیے ہیں، 2035 تک ہم 1 ٹریلین ڈالر اکانومی بنیں گے ،اس کے لیے فائیوای فارمولے کے تحت اڑان پاکستان کا منصوبہ بنایا گیا ہے ،ڈیجیٹل ریولوشن آپ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے ہم نے اس کے تحت دنیا کے ساتھ قدم ملانا ہے ،ورلڈ بینک کے مطابق 5G ٹیکنالوجی 2030 تک عالمی اکانومی میں 13.2 امریکی ڈالر تک کا اضافہ کر سکتی ہے ۔
احسن اقبال نے کہا ہماری کوشش ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ملک کے کونے کونے میں ہو، اے آئی کے تحت اب ترقی سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہے، ہمارا ہدف ہے کہ پاکستان کا کوئی نوجوان اس تیز رفتار ترقی سے محروم نہ رہے بلکہ بہتر انداز میں اس کا حصہ بنے، اب ہم فائیو جی سپیکٹرم کے لیے تیار ہیں جو تیز رفتار کنیکٹوٹی کے لیے مزید آسانی پیدا کرے گا ۔
ان کا مزید کہناتھا پاکستان میں ڈیٹا سیکورٹی پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے یہ تمام اقدامات پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کو بڑھا رہے ہیں، ملائیشیا اور پاکستان کا تعاون ٹیکنالوجی میں جدت کا باعث بنے گا اور دونوں ملکوں کی معیشت میں بہتری لائے گا، یہ شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی کام، ڈیجیٹل اختراع اور کنیکٹیویٹی کے میدان میں تعلقات کو مضبوط کرے گی ۔