افغان دہشتگرد گروپوں،پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں بارے اقوم متحدہ کی رپورٹ جاری

Feb 15, 2025 | 14:46 PM

ایک نیوز:اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کی افزائش اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی ۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں یہ گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں، افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے، دہشت گرد گروپوں کے اثرات مزید بڑھ گئے ہیں، داعش کی افغانستان میں بڑھتی کارروائیاں اور افغان طالبان کی معاونت خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے۔
  رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اپنی کارروائیاں پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے، داعش خراسان کو ایک اہم دھچکا لگا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے داعش خراسان کی بیرونی آپریشنز برانچ کو ناکام بنادیا، پاکستان سکیورٹی فورسز نے داعش کے کے اہم دہشتگردوں کو گرفتار بھی کیا، ان میں عادل پنجشیری، ابو منذر اور کاکا یونس شامل تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ"فتنہ الخوارج نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا جس سے پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہوا، رپورٹ ان حملوں کی تعداد 600 سے زائد ہے اور ان حملوں کیلئے فتنہ الخوراج نے افغان سرزمین کا استعمال کیا ہے، افغان طالبان نے فتنہ الخوارج کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مالی معاونت بھی جاری رکھی ہے۔
اس امداد کے نتیجے میں فتنہ الخوارج نے افغانستان کے مختلف صوبوں میں نئے تربیتی کیمپ قائم کیے اور طالبان کے اندر اپنے حامیوں کی بھرتی کی، افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے ،فتنہ الخوارج، افغان طالبان اور القاعدہ جیسے گروہ اب نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھا رہے ہیں۔
ان گروپوں کے درمیان تعلقات میں ایک خاص نوعیت کی ہم آہنگی اور تعاون نظر آ رہا ہے جس سے ان کی طاقت اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے،اس بڑھتے ہوئے اتحاد سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں،ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے،یہ دونوں گروہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی اور فوجی تعاون کر رہے ہیں بلکہ مشترکہ طور پر دہشت گردانہ کارروائیاں بھی انجام دے رہے ہیں ۔
ان گروپوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے خطے میں ایک نیا غیر علاقائی خطرہ پیدا کیا ہے، افغان طالبان اور فتنتہ الخوارج کے درمیان خودکش بمباروں اور جنگجوؤں کی فراہمی اور نظریاتی رہنمائی جیسے معاملات پر بھی تعاون ہو رہا ہے، اس تعاون سے ان دہشت گرد گروپوں کو ایک دوسرے کی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور وہ خطے کے دیگر گروپوں کے لیے ایک چھتری تنظیم کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
افغانستان کے صوبوں بدخشاں اور قندوز میں داعش کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اسکے علاوہ ہلمند اور قندھار جیسے جنوبی صوبوں میں بھی اس گروہ کی موجودگی بڑھ گئی ہے، داعش افغانستان میں حامیوں کو بڑھانے اور اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے، بامیان میں غیر ملکی سیاحوں پرحملے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس میں طالبان کے ڈائریکٹر جنرل آف انٹیلی جنس مولوی نیک محمد عضیفہ ملوث تھے۔
داعش خراسان کے نائب، مولوی رجب نے افغانستان میں کئی اہم خودکش حملوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ،افغانستان داعش خراسان کی افزائش اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کا محور بن چکا ہے، یہ دہشت گرد گروہ افغانستان کے مختلف صوبوں میں جنگجوؤں کو تربیت فراہم کرتا ہے، جن میں خودکش بمبار اور دیگر دہشت گرد شامل ہیں۔
یہ تمام دہشتگرد، دہشتگردانہ کارروائیوں ، جنگجوؤں کی تربیت اور فنڈنگ میں ملوث تھے، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، ترکستان اسلامی پارٹی نے فتنتہ الخوارج المعروف ٹی ٹی پی، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور جماعت انصار اللہ جیسے گروپوں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں، ان تنظیموں نے افغانستان کے مختلف صوبوں جیسے بلخ، بدخشاں، قندوز، کابل اور بغلان میں اپنے مقامی ہیڈکوارٹرز اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی نے پاکستان کے جنوبی علاقوں میں کئی بڑے حملے کیے ہیں اور اپنی صفوں میں خواتین کو بھی شامل کیا ہے، مجید بریگیڈ نے بھی اس دوران اہم حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ان کے روابط ایسٹ ترکستان اسلامی موومنٹ، ترکستان اسلامی پارٹی، فتنتہ الخوراج اور داعش کے ساتھ برقرار ہیں، یہ گروہ افغانستان میں اپنے آپریشنز کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
ان کے آپس میں تعاون سے بلوچستان میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے، بلوچستان لبریشن آرمی نے ان گروپوں کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات قائم کیے ہیں جو ان کی کارروائیوں کو ایک نیا رخ دینے میں مدد فراہم کر رہے ہیں،عالمی برادری کو اس بحران کے حل کے لیے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔    

مزیدخبریں