سیاستدان کلمہ پڑھتے ہیں مگر اسلام پر عمل نہیں کرتے:فضل الرحمان

سیاستدان کلمہ بھی پڑھتے ہیں مگر اسلام پر عمل نہیں کرتے:فضل الرحمان
کیپشن: Politicians also recite the word but do not practice Islam: Fazlur Rehman

ایک نیوز:ملتان میں جامعہ قاسم العلوم میں مولانا فضل الرحمن نے خطاب میں کہا ہے کہ آج کل ملک بھر میں مدارس میں تقریبات ہورہی ہیں جو کہ دراصل مدارس میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے سیاسی ماحول میں سب سے مشکل چیز اسلام بن گئی ہے ، سیاست دان کلمہ بھی پڑھتے ہیں مگر اسلام پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
مولانا کا کہنا تھا کہ آٹھ سالہ تعلیم کے بعد اساتذہ ان طلباء کو رخصت کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں، علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کوئی دنیاوی امانت علماء کے حوالے نہیں کرر ہے ہیں بلکہ علم ان کے حوالے کررہے ہیں اور اسی نسبت سے علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں، ہم علماء علوم وحی کے وارث بنتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز وحی سے کیا اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کہ تشکیل حیات انسانی کا مدار وحی پر ہے، انسان کو دو امتیازات ایسے عطاء کئے گئے جس سے انسان تمام جانداروں سے ممتاز ہوتا ہے،وہ امتیازات عقل اور قوت گویائی ہیں، عقل سے انسان سمجھتا ہے اور قوت گویائی سے سمجھاتا ہے، عقل علوم وحی سمجھانے کے لئے عطا کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مخاطب کرکے حکم دیا کہ میرا حکم لوگوں تک پہنچا دیں اور پہنچانے کو لازم و واجب قرار دیا، دعوت کے راستے کی مشکلا ت سے حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے اور نتیجہ کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے خود لے لی ہے، جتنا تمہارے بس میں ہو دشمن کے مقابلے میں اپنی طاقت بڑھاؤ اور اپنی استطاعت کے دائرے میں رہ کر کام کرو، عقل غلطی کرتی، خارجی اثرات کو قبول کرتی اور ٹھوکر کھاتی ہے، محبت، شہوت، غضب کے غلبہ کی صورت میں عقل مغلوب ہوجاتی ہے، اس لئے اکیلی عقل رہنمائی کے لئے کافی نہیں ہے۔