پی ٹی آئی کی ایک اور سازش بے نقاب، آئی ایم ایف سے کارروائی کا مطالبہ

 پی ٹی آئی کی ایک اور سازش بے نقاب، آئی ایم ایف سے کارروائی کا مطالبہ
کیپشن: Another PTI conspiracy exposed, calls for action from IMF

ایک نیوز: پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ آئی ایم ایف کو جمع کرایا گیا ڈوزیئرمیں پاکستان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، ملک کی معیشت کی بحالی کو سبوتاژ کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
 یہ اقدام پی ٹی آئی کی اس تاریخی روش سے مطابقت رکھتا ہے جس میں وہ پاکستان کے استحکام کے موقع پر غیر ملکی مداخلت کے ذریعے قومی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے، پی ٹی آئی کے ریاست مخالف ایجنڈے کو بے نقاب کرنا جو مسلسل پاکستان کی معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ 
یہ اجاگر کرنا کہ پی ٹی آئی جمہوری یا قانونی حل کے بجائے غیر ملکی مداخلت کو ترجیح دیتی ہے، پاکستانی معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی رکاوٹ کو قومی مفاد کے خلاف تصور کیاجائے گا،یہ ثابت کرنا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا، بشمول آئی ایم ایف سے متعلق تخریب کاری، جھوٹے بیانیے کے مقابلے میں حقائق پیش کرنا تاکہ عوام کو پی ٹی آئی کی نقصان دہ سیاسی چالوںسے آگاہ رکھا جا سکے۔ 
 جب بھی پاکستان معاشی بحالی کے دہانے پر ہوتا ہے، پی ٹی آئی غیر ملکی مداخلت اور سازشوں کے ذریعے ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہے، معاشی استحکام پاکستان کا قومی مقصد ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے اس نازک مرحلے پر اسے متاثر کرنے کی کوشش غیر محب وطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
کوئی بھی محب وطن سیاسی جماعت بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اپنے ہی ملک کے خلاف لابنگ نہیں کرے گی، پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط ایک سیاسی چال نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری پر براہ راست حملہ ہے، تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، پی ٹی آئی کے رہنما پہلے بھی آئی ایم ایف ڈیل کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی قوتوں سے مدد طلب کرتے رہے ہیں۔
  آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر کے باہر احتجاج کرنے سے لے کر سابق وزرائے خزانہ کی لیک شدہ گفتگو تک پی ٹی آئی کا پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کا ریکارڈ واضح ہے، جب پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تو معیشت کو بری طرح چلایا، اور اب اپوزیشن میں آ کر وہ معاشی بحران کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 جمہوری اور قانونی ذرائع کے بجائے غیر ملکی مداخلت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے مفادات قومی مفادات سے متصادم ہیں، پاکستان اس وقت سٹریٹجک شراکت داری، تجارتی معاہدوں اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 
پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو ڈوزیئر جمع کرانے کا وقت کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ اس نازک مرحلے پر معیشت کو غیر مستحکم کیا جا سکے، کوئی ذمہ دار سیاسی جماعت معاشی چیلنجز کو سیاسی فائدے کے لیے ہتھیار نہیں بناتی مگر پی ٹی آئی قومی بحرانوں سے ہی اپنی سیاست چمکاتی ہے۔