برطانوی سکیورٹی حکام ایلون مسک کی سوشل میڈیا پوسٹوں کی مانیٹرنگ کیوں کررہے ہیں؟

برطانوی سکیورٹی حکام ایلون مسک کی سوشل میڈیا پوسٹوں کی مانیٹرنگ کیوں کررہے ہیں؟

ویب ڈیسک: برطانوی سیکیورٹی حکام نے ایلون مسک کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو مانیٹر کرنا شروع کردیا ہے۔ 

برطانوی میڈیا کے مطابق، مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک کی پوسٹس کو ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں نگرانی کی جارہی ہے۔

یہ کام برطانیہ کے ہوم آفس کی ہوم لینڈ سیکیورٹی ٹیم انجام دے رہی ہے، جو یہ جانچ رہی ہے کہ مسک کی پوسٹس کا اثر کہاں تک پہنچتا ہے اور ان پر کون لوگ ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایلون مسک نے برطانیہ کے سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں سوال کیا تھا کہ "کیا امریکہ کو برطانیہ کے عوام کو ان کی 'ظالمانہ حکومت' سے آزاد کروانا چاہیے؟"

یہ بیان برطانوی سیاست میں ہلچل کا باعث بنا، جہاں مسک نے خاص طور پر لیبر حکومت کو نشانہ بنایا۔

مسک نے برطانیہ کے بچوں کے ساتھ زیادتی کے اسکینڈلز کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور سیف گارڈنگ منسٹر جیس فلپ پر شدید الزامات لگائے، انہیں "ریپ اور نسل کشی کی معافی دینے والا" قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں جیس فلپ کو مبینہ دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔

ایلون مسک نے اپنی پوسٹس میں برطانوی وزیراعظم پر بھی تنقید کی، ان پر الزام لگایا کہ وہ "گرومنگ گینگز" کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مسک کے ان بیانات کے بعد برطانیہ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی ٹیم ان کی پوسٹس کی چھان بین کر رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ بیانات عوامی ردعمل کو کیسے متاثر کر رہے ہیں اور کیا ان سے سیکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ روپرٹ لو نے ہوم آفس سے سوال کیا ہے کہ مسک کی کتنی پوسٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اس عمل پر کتنا خرچ ہو رہا ہے؟

واضح رہے کہ ایلون مسک، جو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر بھی ہیں، اپنے بیانات کی وجہ سے اکثر تنازعات کی زد میں رہتے ہیں۔ برطانیہ کے ساتھ ان کے حالیہ بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔