پی ٹی آئی نے مذاکرات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا: مولانا فضل الرحمان

پی ٹی آئی نے مذاکرات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا: مولانا فضل الرحمان

ایک نیوز: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے حوالے سے ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ معیشت کی بہتری پر عوام کو حقائق معلوم ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی بہتری ہماری خواہش ہے، لیکن جب تک عوام کو اس کے ثمرات نہیں ملیں گے، بہتری کے دعوے ثابت نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر کو مضبوط کیے بغیر عام آدمی کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ مولانا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاستدانوں کو ملک کے نظام کی بہتری کے لیے ایک جگہ پر ٹھہرنا ہوگا اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کالا باغ ڈیم اور نئی نہروں کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ایسے معاملات کو قومی اتفاق رائے سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مسائل صرف اس وقت حل ہوں گے جب تمام فریقین مل کر فیصلے کریں گے۔

بلوچستان کے حلقہ 45 میں ہونے والے حالیہ انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن شفاف نہیں تھے۔ انہوں نے فارم 45 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ امیدواروں کو صرف چند ووٹ ملے اور ایسے نتائج پر عوام کا الیکشن کمیشن پر اعتماد قائم نہیں ہو سکتا۔

مولانا نے اسٹیبلشمنٹ پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ جمہوریت اور آئین کا مذاق اڑاتی ہے۔ ان کے بقول، "اقتدار اور گرفت کو جائز یا ناجائز طریقے سے برقرار رکھنا ہی اسٹیبلشمنٹ کا واحد نظریہ ہے۔"

مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قومی سطح پر قانون سازی ہو چکی ہے اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مدارس کو ریلیف دیا گیا ہے، جس پر جے یو آئی کو کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم، انہوں نے صوبائی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ قانون سازی میں تاخیر کر رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مذاقاً کہا کہ خالد مقبول صدیقی نے مدارس بل کو سمجھنے کے لیے ان کے گھر آ کر اسے زیرِ غور لیا۔ انہوں نے کہا، "خالد مقبول صدیقی وزیر تعلیم ہیں، لیکن میرے گھر زیر تعلیم ہیں۔"

مولانا فضل الرحمان کے ان بیانات نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی اپنے موقف پر پہلے بھی قائم تھی اور آئندہ بھی رہے گی۔