ایک نیوز: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملکی معاشی اعشاریے بتدریج بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور جومنفی کوششیں عمران خان اور پی ٹی آئی کی طرف سے کی گئیں وہ ساری کی ساری ناکام ہوئی ہیں۔
پی ٹی آئی نےغیر ملکی ترسیلات ملک بھجوانے سے منع کرنے کا حربہ بھی استعمال کیا جسے عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے پہلے سے بھی زیادہ ترسیلات بھجوا کر پی ٹی آئی کی ایک اور منفی کال کو مسترد کر دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بزنس فیسیلی ٹیشن سنٹر کے دورے اور سنٹر کے ایک سال مکمل ہونے پر کیک کاٹنے کی تقریب اور عملے کی بہترین کارکردگی پر انہیں شیلڈز دینے کے موقع پر خطاب میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ بزنس فیسیلی ٹیشن سنٹر آٹومیشن کی جانب سفر ہے، شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی سے نظام میں شفافیت آئے گی اور ان کو سرکاری دفاتر کے چکر بھی نہیں کاٹنے پڑیں گے جس سے ریسورسز کی بھی بچت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ نومبر اور دسمبر میں غیر ملکی ترسیلات کی شرح گزشتہ سال کی نسبت زیادہ رہی۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی ہر ماہ اپنی فیملیزکے ماہنامہ خرچہ کی مد میں ترسلات بھجواتے ہیں جو وہ کسی کے کہنے پر بند نہیں کرسکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کرنے کی پیشکش میں کوئی صداقت نہیں بلکہ یہ صرف ان کی ذاتی خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی گزشتہ دو تین سال سے اپنی تمام منفی حرکتوں میں ناکام ہوئی ہے، پی ٹی آئی کی تخریبی سرگرمیوں کے باوجود ہماری ملکی معیشت کا روز بروز مستحکم ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت درست سمت میں گامزن ہے اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر چل پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات سے مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں تو ان کی ملاقات کروانے میں کوئی مضائقہ نہیں تاہم ٹویٹ کے بعد مذاکرات اتمام حجت ہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسز ہورہی ہیں جو ایک چھوٹے موٹے جلسے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن جو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں روک دیا گیا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے بحال ہو چکا ہے اور پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے)نے پیرس میں فلائٹ آپریشن شروع کردیا ہے اور آئندہ چند روز میں 19 ممالک کے لئے فلائٹس کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی ہمارے لیے باعث فخر ہے جنہوں نے اپنا ائیرپورٹ، ڈرائی پورٹ بنایا جن کی بنی ہوئی تمام مصنوعات بیرون ملک بھجوائی جاتی ہیں جس سے وہ اپنے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بھی کثیر زرمبادلہ کما کر دے رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بزنس فیسیلی ٹیشن سنٹر میں کافی سہولیات ایک چھت تلے آ چکی ہیں اور جو رہ گئی ہیں ان کے لیے بھی مثبت و ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو رہا کرنا عدالتوں کا کام ہے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کے دوران پی ٹی آئی تحریری طور پر اپنے مطالبات دینے سے گریزاں کیوں ہے یہ تو وہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ جتنی سہولیات عمران خان کو میسر ہیں ہمیں تو نہیں تھیں ، پی ٹی آئی کے دور حکومت کے دوران کسی بھی سیاسی قیدی کو ایسی سہولت میسر نہیں تھی جیسی انہیں حاصل ہیں، ہمیں تو عمران خان کے دور حکومت میں قید کے دوران زمین پر سونے کے لیے مجبور کیا جاتا رہا، ہمیں تو چارپائی بھی نہیں دی گئی، میرے بچے امریکہ سے ملنے آئے اور ملاقات بھی ہوئی، ان کے بیٹوں کو چاہیئے کہ وہ یہاں آئیں اور اپنے باپ سے ملاقات کریں جو اولاد کا بھی اور باپ کا بھی حق ہے۔