نواک جوکووچ کا آسٹریلیا میں زہریلی خوراک دیے جانے کا انکشاف

نواک جوکووچ کا آسٹریلیا میں زہریلی خوراک دیے جانے کا انکشاف

ویب ڈیسک: سربیا کے عالمی شہرت یافتہ ٹینس اسٹار نواک جوکووچ نے انکشاف کیا ہے کہ 2022 میں آسٹریلیا میں دوران حراست انہیں زہریلی خوراک دی گئی تھی۔ 

یہ دعویٰ انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کیا، جو کہ بین الاقوامی سطح پر حیرت کا باعث بنا ہے۔

نواک جوکووچ نے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’جی کیو‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میلبرن کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران انہیں زہریلا مواد دیا گیا جس کے اثرات ان کی صحت پر ظاہر ہوئے۔ انہوں نے کہا:

"وطن واپسی پر مجھے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، طبی معائنے کے دوران پتہ چلا کہ میرے جسم میں دھات اور مرکری کی بڑی مقدار موجود ہے۔ یہ واقعہ میرے لیے ایک ناقابل فراموش صدمہ ہے۔"

یاد رہے کہ نواک جوکووچ کو 2022 میں کرونا ویکسین نہ لگوانے کے باعث آسٹریلین اوپن میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان کا ویزا منسوخ ہونے کے بعد انہیں میلبرن کے ایک ہوٹل میں مہاجرین کے ساتھ رکھا گیا تھا، جہاں سے انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔

ٹینس اسٹار نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ان کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنا اور وہ آج بھی اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے کبھی عوامی سطح پر بات نہیں کی کیونکہ معاملہ حساس تھا۔

آسٹریلیا کے محکمہ برائے داخلہ نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ اس خبر نے عالمی کھیلوں کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔

37 سالہ نواک جوکووچ، جو اب تک 24 گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیت چکے ہیں، اپنی نگاہیں اگلے ہفتے شروع ہونے والے آسٹریلین اوپن پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، جہاں وہ 25ویں ٹائٹل جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

یہ انکشاف نہ صرف نواک جوکووچ کے مداحوں بلکہ عالمی کھیلوں کی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے اور اس واقعے کے مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی توقع کی جا رہی ہے