کئی ممالک پاکستان سے کاٹن کا بیج لیکر آگے نکل گئے، ہم پیچھے رہ گئے: وزیراعلیٰ

Oct 07, 2023 | 15:06 PM

JAWAD MALIK

ایک نیوز: نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ کاٹن ایک قدرتی تحفہ ہے جو صدیوں سے انسانی تہذیب کا حصہ ہے، کئی ممالک پاکستان سے بیج لے کر اپنی پیداوار کئی گنا بڑھا چکے ہیں لیکن ہم پیچھے رہ گئے، ہماری یونیورسٹیوں کو کاٹن ریسرچ پہ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعلی محسن نقوی اور نگران وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے پرس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ورلڈ کاٹن ڈے ہمارے لئے خوشی کا دن ہے،کپاس کی پیداوار میں اضافہ کے لیے محکمہ زراعت نے مثالی کام کیا،ہم نے سٹلائٹ کے زریعہ کپاس کی مانیٹرنگ کی،پاک فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں،پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے سفید مکھی کے موقع پر فصل پر سپرے کیا،اب تین بلین ڈالر  کااضافہ ہوگا۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ گندم کی پیداوار میں بھی اضافہ کررہے ہیں،اصل معاملہ سیڈ کا ہے۔سیڈ کی منظوری بہت مشکل ہے،ہم نے پنجاب سے سیڈ کی رجسٹریشن ختم کردی ہے،وفاقی حکومت سے سیڈ کی رجسٹریشن کا فی ہے،6 بلین ڈالر مزید یہاں سے کمایا جاسکتا ہے،خوردنی تیل  کی پیداوار میں اضافہ کے لئے کام کررہے۔ریسرچ کے متعلق سفارشات پر کام کریں گے،بین الاقوامی معیار کے مطابق ریسرچ کریں گے،چینی کی قیمت اب 140 روپے ہے،سمگلنگ روکنے سے معاملات بہتر ہوئے ہیں۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ جعلی کھاد بنانے والوں کے خلافِ کاروائی کرنے کے لیے قانون سخت کرنے کی ضرورت ہے،قانون پر عمل نہ ہونے کی وجہ گردے نکالنے والا ڈاکٹر پانچ بار پکڑا گیا اور رہا ہوا،اب وہ چھٹی بار پکڑا گیا۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ کاٹن ڈے 7 سال بعد منا رہے ہیں،کپاس ایک کروڑ سے 33 لاکھ گانٹھیں رہیں گئیں،فی ایکٹر کی پیداوار میں ریکارڈ کمی ہوئی ، ہم  کپاس کی 33 لاکھ بیلز سے 80 لاکھ  بیلز پر لے گئے،یہ کام پوری پنجاب گورنمنٹ نے کیا،10سال بعد کپاس بحال ہوئی، مجے 25 بلین ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ چاہیئے،ٹیکسٹائل انڈسٹری سے بہت تواقعات ہیں،ابھی بیج پر تحقیق نہیں ہوئی۔

گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ سفید مکھی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اس کے باوجود کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہوئٖی،ہمیں قرض سے نجات حاصل کرنی ہے،ایپٹما رسرچ کے لیے ایک ارب روپے دینے کو تیار ہے، ہم فی ایکڑ پیداوار کے لیے 10من سے 30 من پر پہنچیں گے،ریسرچ کا روڈ میپ کا تعین کیا جائے۔

دوسری جانب نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے کاٹن ڈے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کاٹن ایک قدرتی تحفہ ہے جو صدیوں سے انسانی تہذیب کا حصہ ہے،کاٹن کپڑے، گھریلو سامان، صنعتی مصنوعات اور دیگر بے شمار اشیاء کی تیاری میں خام مال فراہم کرتی ہے،کاٹن پاکستان کی ایکسپورٹ کا ایک اہم ترین حصہ ہے اور لاکھوں کسانوں کا ذریعہ آمدن بھی،کاٹن ڈے کا مقصد کاٹن کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور کاٹن انڈسٹریز کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ کئی ممالک پاکستان سے بیج لے کر اپنی پیداوار کئی گنا بڑھا چکے ہیں لیکن ہم سیڈ ڈویلپمنٹ میں  پیچھے رہ گئے، کاٹن میں خودکفیل تھے لیکن آج ہمیں ضرورت پوری کرنے کے لیے امپورٹ کرنا پڑتی ہے،ہماری یونیورسٹیوں کو کاٹن ریسرچ پے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،رواں برس پنجاب میں 10برس کے بعد تقریبا 50 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کپاس کاشت کی گئی، حکومت پنجاب نے بروقت فیصلے اور کسانوں کو مراعات دے کر 3ارب ڈالر کی اضافی کاشت کی تاکہ امپورٹ بل گزشتہ سالوں کی طرح نہ بڑھے،کاٹن کاشت کرنے والے کسانوں کو  مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔جدید ٹیکنالوجی اور بہترین ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا،پاکستان میں کاٹن کلسٹرز بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ویلیو ایڈیشن ہو اور آمدنی زیادہ ہو ،کپاس کی فصل صوبے اورکاشتکار کیلئے معاشی گیم چینجرثابت ہوسکتی ہے۔

مزیدخبریں