ایک نیوز: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے ہم دینی مدارس کو حکومت کے اثر ورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔
تفصیلات کےمطابق مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ دینی مدارس کو دباؤمیں رکھا گیا ، ایک زمانے سے یہاں نظریے اور فکر نے جنم لیا ہے، ایجادات اور تخلیقات کا عمل چلتا رہے گا، قدیم ، جدید تعلیم کہنے کیخلاف ہوں،علم ،علم ہوتا ہے، سائنسی اور جدید علوم کا انکار نہیں کیا جا سکتا ،چاہتے ہیں اس متفقہ قانون سازی پر اتفاق ہو اور بل بن جائے۔
انہوں نے کہا انسان میں تمام علوم حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ایسا نہیں کہ ہم عصری علوم کے قائل نہیں، مدارس کے طلبا کے عصری علوم کی شرح دیگر اداروں سے زیادہ ہے، مدرسے کا طالب علم تمام عصری علوم حاصل کر رہا ہے، دینی مدارس فتنہ روکنے کی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں، ہم مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں ہے، دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں، دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان تفریق کے بھی خلاف ہوں، مدارس کو شدت اور انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، طویل مشاورت سے مدارس کی رجسٹریشن پر اتفاق ہوا ۔