پرویز مشرف کی سرکاری تدفین ہونی چاہئیے یا نہیں ؟رضا ربانی کا موقف 

پرویز مشرف کی سرکاری تدفین ہونی چاہئیے یا نہیں ؟رضا ربانی کا موقف 

ایک نیوز : سابق صدر پرویز مشرف کو سرکاری اعزاز میں تدفین کے حوالہ سے رضا ربانی کا بیان سامنے آگیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف آرٹیکل چھ کے تحت سزا یافتہ ہیں ان  کو آئین شکنی کے مرتکب ہونے کی وجہ سے سرکاری طور پر تدفین کا اعزاز نہیں دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی میت پاکستان بھیجنے کی تیاریاں مکمل ،این او سی جاری کردیا گیا ہے۔ سفارتی حکام کے مطابق دبئی قونصل خانے نے میت منتقل کرنے کیلئے این او سی جاری کردیا اور ان کا پاسپورٹ کینسل کردیا گیا ہے۔سفارتی حکام نے بتایاکہ سابق صدر پرویز مشرف کی میت راولپنڈی روانہ کی جائے گی۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف دبئی میں انتقال کرگئے۔ وہ طویل عرصے سے امریکن اسپتال دبئی میں زیرعلاج تھے۔

سابق صدر پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے، ان کا انتقال 79 سال کی عمر میں ہوا۔  پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، 12 اکتوبر 1999 کو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہٹا کر چیف ایگزیکٹو بنے اور بعد ازاں اپریل 2002 میں ریفرنڈم کراکے باقاعدہ صدر پاکستان منتخب ہوئے۔سال 2004 میں آئین میں 17 ویں ترمیم کے ذریعے مزید 5 سال کے لیے پرویز مشرف باوردی صدر منتخب ہوئے، پرویز مشرف 18 اگست 2008 کو مستعفی ہوکر ملک سے باہر چلےگئے تھے۔