پرنس کریم آغا خان کون تھے؟

Feb 05, 2025 | 12:16 PM

ویب ڈیسک:اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان88برس کی عمر میں پرتگال کے شہر لزبن میںانتقال کر گئے، انتقال کے وقت شاہ کریم کے اہلخانہ ان کے پاس موجود تھے۔ 
پرنس کریم آغا خان 1936سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے،نیروبی میں بچپن گزاراجبکہ ہاورڈ سےاسلامی تاریخ میں ڈگری حاصل کی، پرنس کریم آغا خان کے3بیٹے رحیم آغاخان، علی محمد آغاخان اور حسین آغا خان ہیں اورایک بیٹی زہر آغا خان ہیں۔
  پرنس کریم آغا خان پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے تھے۔
پرنس کریم آغا خان نے1957میں امامت سنبھالی تھی،اس وقت انکی عمر20برس تھی، پرنس کریم کے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان اسماعیلی تھے، پرنس کریم آغا خان نےاپنی زندگی پسماندہ طبقات کی زندگیو ں میں بہتری لانے میں صرف کی، وہ اسلام ایک دوسرے سے ہمدردی، برداشت اور انسانی عظمت کا درس دیتے تھے۔
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے ذریعے انہوں نے دنیا کے مختلف خطوں خصوصاً ایشیا اور افریقا میں فلاحی اقدامات کیے،یہ اقدامات زیادہ تر تعلیم، صحت، معیشت اور ثقافت کے شعبوں میں تھے،پرنس کریم کو مختلف ممالک اوریونیورسٹیوں کیجانب سے اعلی ترین اعزازات اور اعزازی ڈگریوں سے نوازا گیا تھا۔ 
مثالی خدمات پر پرنس کریم آغا خان کو نشان پاکستان اور نشان امتیاز سے نوازا گیا تھا،وینٹی فئیر میگزین نے پرنس کریم آغا خان کو ون مین سٹیٹ کا نام دیا، پرنس کریم آغا خان اعلیٰ ترین سطح پر سفارتکاری کے حوالےسے جانے جاتے تھے، انہوں نے صدر ریگن اور گورباچوف کی جینیوا میں سفارتی بات چیت ممکن بنائی۔
پرنس کریم آغا خان کے آباؤ اجداد صدیوں پہلے فارس سے بھارت منتقل ہوگئے تھے، پرنس کریم آغا خان کے اثاثوں کی مالیت 13ارب ڈالر کےقریب بتائی جاتی ہے۔

مزیدخبریں