ایک نیوز:صرف 2 روز میں قومی اسمبلی سے 53 بل منظور،قومی اسمبلی نے آج 12بل کثرت رائے سے منظور کر لیئے جن میں سے سات نئے تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے ہیں جس پر اراکین نے احتجاج بھی کیا اسمبلی میں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2023 اور پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2023 مزید ترمیم کے ساتھ پاس کر لیئے ہیں جبکہ ٹریڈ آرگنائزیشن بل کو مشترکہ اجلاس کو بیجھوا دیا گیا ہے،نئے تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اتفاق رائے ہونے کے بعد اسمبلی کا ایجنڈا معطل کر کے بل پاس کیےگئے ۔
تفصیلات کےمطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہوا،قومی اسمبلی میں طارق بشیر چیمہ نے پرائس کنٹرول اور منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا،
مولانا عبدالاکبر چترالی نے چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ احمد حسین ڈیہڑ کی طرف سے وفاقی عدالتی کارروائی کی خدمت بل 2023پیش کیا۔
وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے وزیر توانائی کی طرف سے گیس چوری کی روک تھام اور وصولی ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا ۔بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
وزیر تخفیف غربت شازیہ مری نے زکوٰۃ عشر ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا جو کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
وزیر پارلیمانی امور نے وزیر تجارت نوید قمر کی طرف سے سینیٹ سے ترمیم کے ساتھ منظور ہونے والے بل ٹریڈ آرگنائزیشن بل 2023ایوان میں پیش کیا جس کو قومی اسمبلی نے مسترد کردیا جس کے بعد بل کو مشترکہ اجلاس میں بھیج دیا گیا۔
شازیہ مری نے وزیر خارجہ بلاول کی طرف سے ایپوسٹائل ترمیمی بل 2023 پیش کیا جس کو منظور کر لیا گیا،غیر ملکی عوامی دستاویزات کے لئے قانون حیثیت کی شرط ختم کرنے سے متعلق بل منظور کیا گیا ہے وجیہہ قمر نے چیرپرسن قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کی طرف سے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2023اور پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کئے۔وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا ۔مولانا عبدالاکبرچترالی اور عالیہ کامران نے مخالفت کردی۔وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کونسل آف پاکستان ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا ۔ بل کثرت رائے سے پاس ہوگیا۔ایجنڈا معطل کرکے بل لیا گیا۔
ریاض الحق نے قائداعظم انسٹیٹوٹ آف منیجمنٹ سائنسز سرگودھا بل 2023ایوان میں پیش کیا،وزیر نے بل کی حمایت کی ۔بل قومی اسمبلی نے پاس کرلیا۔طاہرہ اورنگزیب نے اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023ایوان میں پیش کیا ۔ بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
طاہرہ اورنگزیب نے ثمیہ مطوب اور کیل داس کی طرف سے نے اسلام آباد یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اینڈ ایمر جنگ ٹیکنالوجی کا بل 2023ایوان میں پیش کیا ۔بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
رکن اسمبلی وجہیہ قمر نے فیلکن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023ایوان میں پیش کیا ۔قیصر شیخ نے کنکز انسٹیٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن بل 2023ایوان میں پیش کیا،بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔
طاہرہ اورنگزیب نے مونارک انسٹیٹیوٹ حیدر آباد بل 2023ایوان میں پیش کیا بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا،طاہرہ اورنگزیب نے عبدالقادر مندوخیل کی طرف سے ببرک انسٹیٹیوٹ آف سائنس آرٹ و ٹیکنالوجی بل 2023ایوان میں پیش کیا بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔
ارکان پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ نئی قانون سازی کے بلز متعلقہ کمیٹیوں کو بھی نہیں بھیجے جا رہے اور نئی قانون سازی پر ایوان میں بحث بھی نہیں کرائی جا رہی۔
ممبران اسمبلی کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد بازی میں کی گئی قانون سازی کے اثرات ہوں گے۔صرف ایک روز میں قومی اسمبلی نے ایک درجن سے زائد بل منظور کیے اور بعض شقوں میں تو ایسے بل بھی پاس کروائے گئے جو ایجنڈے پر موجود ہی نہیں تھے۔
جمعرات 27 جولائی کو قومی اسمبلی نے 24 بل منظور کیے جبکہ جمعہ 28 جولائی کو قومی اسمبلی نے 29 بل منظور کیے، گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی سے 6 بل پاس کروائے گئے اور اسی قانون سازی کو لیکر حکومتی اراکین میں جھگڑا ہو گیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا پڑ گیا۔
اس کی مثال نگران حکومت کی مدت کے حوالے سے بل ہے جس کا ایجنڈا نا تو وقت پر جاری کیا گیا اور نا ہی اس کا مسودہ ارکان کو فراہم کیا گیا تھا، اس کے علاوہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل بھی ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بل بغیر بحث کے منظور کروائے گئے۔
گھوڑے پر بیٹھ کر قانون سازی کی جا رہی ہے، رکن اسمبلی عبدالاکبر چترالی
اس قانون سازی کے حوالے سے اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا اور جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی کا کہنا تھا اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہے تو گھوڑے پر بیٹھ کر قانون سازی کی جا رہی ہے۔
اسی طرح سینیٹ کے 24 جولائی سے جاری اجلاس میں بھی اب تک 13 بل منظور کروائے جا چکے ہیں جس میں سے کچھ بل تو ایوان بالا میں براہ راست پیش کر کے منظور کروائے گئے جیسے آرمی ایکٹ ترمیمی بل، ڈی ایچ اے بل اور کنٹونمنٹ بل کو سینیٹ نے فوری طور پر ایجنڈا میں پیش کیا گیا اور اسی وقت منظور کر لیا گیا۔